Translate This Site In Your Language

مطلوبہ مواد لکھیں

ماه مبارك كي دعا اور مختصر شرح، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
ماه مبارك كي دعا اور مختصر شرح، لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 22 مئی، 2020

انتیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے لیکن ہم کو بھی اس کی رحمت کے دائرہ میں آنے کے لئے اپنےدل کو پاک اور صاف رکھنا چاہئے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ غَشِّنى فیهِ بِالرَّحْمَةِ وَ ارْزُقْنى فیهِ التَّوْفیقَ وَ الْعِصْمَةَ وَ طَهِّرْ قَلْبى مِنْ غَیاهِبِ التُّهَمَةِ یا رَحیماً بِعِبادِهِ الْمُؤْمِنینَ.[۱]
 خدایا اس میں مجھ کو رحمت سے چھپا دے، اور مجھ کو توفیق اور حفاظت عطا کر، اور میرے دل کو پاک کر دے شکوک کی تاریکیوں سے، اے مومن بندوں پر رحم کرنے والے۔
     اگر خدا کسی کو نعمت عطا کرنے کا ارادہ کر لے تو کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو اسے اس کام سے روک سکے اور اس کے بر خلاف اگر خدا کسی کو نعمت نہ دینے کا اردہ کرلے تو ساری دنیا ملکر بھی اس کو نعمت نہیں دے سکتی: « مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِن رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِن بَعْدِهِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ[سورۂ فاطر، آیت:۲] اللہ نے جب لوگوں پر اپنی رحمت کے دروازے کھولتا ہے، اس کو کوئی بھی بند نہیں کرسکتا اور جن کے لئے بند کردے اس پر کوئی کھولنے والا نہیں ہے وہ ہر شیٔ پر غالب اور صاحبِ حکمت ہے»۔
     لیکن ہم جب تک اپنے آپ کو اس کی رحمت کے لائق نہ بنالیں، خدا ہم پر رحمت نہیں کرتا، خدا گناہ کی سزا جس کو چاہے دیتا ہے لیکن اسکی رحمت کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس میں شامل ہے: « قَالَ عَذَابِي أُصِيبُ بِهِ مَنْ أَشَاء وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَـاةَ وَالَّذِينَ هُم بِآيَاتِنَا يُؤْمِنُونَ[سورۂ اعراف، آیت:۱۵۶] ارشاد ہوا کہ میرا عذاب جسے میں چاہوں گا اس تک پہنچے گا اور میری رحمت ہر شے پر وسیع ہے جسے میں عنقریب ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو خوف خدا رکھنے والے زکوۃ ادا کرنے والے اور ہماری نشانیوں پر ایمان لانے والے ہیں»۔ اس آیت کے آخری حصہ میں خدا نے واضح کردیا ہے کہ اس کی رحمت کی بارش ان لوگوں پر ہوتی ہے جو اپنے آپ کو گناہوں سے بچاتے ہیں، امام کاظم(علیہ السلام) بھی اس کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ خدا کی رحمت کے مستحق کون قرار پاتے ہیں: « إِنَ‏ أَهْلَ‏ الْأَرْضِ‏ لَمَرْحُومُونَ‏ مَا تَحَابُّوا وَ أَدَّوُا الْأَمَانَةَ وَ عَمِلُوا بِالْحَقِّ[۲] یقینا اہل زمین جب تک ایک دوسرے سے محبت کرینگے اور امانت اداء کرینگے اور حق پر عمل کرینگے، خدا کی رحمت ان کے شامل حال رہے گی».
     فقط نماز، روزہ اور فردی عبادت خدا کی رحمت کا سبب نہیں بنتی بلکہ معاشرے میں اخلاق موجود ہونا چاہئے تاکہ خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہوں، جب تک معاشرے میں بداخلاقی، جھوٹ، تھمت، امانت میں خیانت، قدرت سے محبت وغیرہ ایسی چیزیں موجود رہیں گی، خدا ان پر رحمت کو نازل کرنے کے لئے پرہیز کریگا۔
     صرف رحمت کو جان لینا کے وہ کیا ہے اور کس چیز کی وجہ سے خدا اسے نازل کرتا ہے، خدا کی رحمت نازل نہیں ہوتی بلکہ ان چیزوں کو جب تک اپنی زندگی میں شامل نہیں کرینگے اس وقت تک خدا کی رحمت نازل ہونے والی نہیں ہے، اسی لئے خدا سے دعا مانگ رہے ہیں کہ ہمیں ان چیزوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے: « َللَّهُمَّ غَشِّنى فیهِ بِالرَّحْمَةِ؛ خدایا  اس میں مجھ کو رحمت سے چھپا دے»۔
     اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ خدا کی رحمت ہمارے شامل حال ہوجائے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا سے عبادتوں کو انجام دینے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق طلب کریں، اپنی قدرت اور توانائی پر تکیہ نہ کریں بلکہ خدا سے ان اعمال کی بجاآوری کے لئے توفیق کو طلب کریں کیونکہ ہماری جتنی بھی قدرت اور توانائی ہے وہ اسی کی عطا کی ہوئی ہے، امام  جواد(علیہ السلام) اس کے بارے میں فرما رہے ہیں: « الثِّقَةُ بِاللَّهِ‏ تَعَالَى‏ ثَمَنٌ‏ لِكُلِ‏ غَالٍ‏ وَ سُلَّمٌ‏ إِلَى‏ كُلِ‏ عَالٍ[۳]‏ خدا پر بھروسہ کرنا ہر قیمتی چیز کی قیمت اور زینہ ہے ہر بلندی کے لئے».
     اسی لئے ہم  آج خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ ارْزُقْنى فیهِ التَّوْفیقَ وَ الْعِصْمَةَ؛ اور مجھ کو توفیق اور حفاظت عطا کر»۔
     اب جبکہ اللہ کی مہمانی کا مہینہ ختم ہورہا ہے تو خداوند عالم سے طلب کررہے ہیں کہ کسی چیز کو سوائے خدا کے ہمارے دل میں باقی نہ رکھے، یہاں تک کہ شک اور شبھہ کو بھی ہمارے دل سے نکال دے، امام حسن(علیہ السلام) شک اور شبھہ کے بارے میں فرما رہے ہیں: « أَسْلَمُ‏ الْقُلُوبِ‏ مَا طَهُرَ مِنَ‏ الشُّبُهَاتِ‏[۴] سب سے سالم  قلب وہ ہے جو شبھات سے بھی پاک ہو»، کیونکہ قیامت کے دن انسان کو کوئی بھی چیز فائدہ پہونچانے والی نہیں ہے سوائے سالم اور پاک دل کے جس کے بارے میں خود خدا ارشاد فرما رہا ہے: « يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ[سورۂ شعراء، آیت:۸۸ و۸۹] جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو».
     اسی لئے ہم خدا سے دعا گو ہیں: « وَ طَهِّرْ قَلْبى مِنْ غَیاهِبِ التُّهَمَةِ یا رَحیماً بِعِبادِهِ الْمُؤْمِنینَ؛ اور میرے دل کو پاک کر دے شکوک کی تاریکیوں سے، اے مومن بندوں پر رحم کرنے والے »۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۶۔
[۲]۔ محمد باقر مجلسى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ ق،ج ۷۲، ص۱۱۷.
[۳]۔ بحار الأنوار, ج۷۵، ص۳۶۴.
[۴]۔ بحار الأنوار، ج۷۵، ص ۱۰۹.

اٹھائیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: مستحب نمازیں واجب نمازوں کی کمیوں کو پورا کرتی ییں۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ وَفِّرْ حَظّى فیهِ مِنَ النَّوافِلِ وَ اََكِرْمنى فیهِ بِاِحْضارِ الْمَسآئِلِ وَ قَرِّبْ فیهِ وَ سیَلتى اِلَیْكَ مِنْ بَیْنِ الْوَسائِلِ یا مَنْ لایَشْغَلُهِ الْحاحُ الْمُلِحّینَ. [۱]
خدایا اس میں مستحبات میں میرا زیادہ حصہ عطا کر، اور مجھ کو مکرم بنا مسائل کے حاضر کرنے کے ذریعہ، اور میرے وسیلہ کو اپنی طرف کے وسائل میں قریب کر، اے وہ خدا جس کو لجاجت کرنے والوں کی لجاجت مشغول نہیں کرتی ہے۔
     انسان کے کمال تک پہونچنےکی ابتداء، نوافل اور مستحب چیزوں کی پاندی ہے، جسکی وجہ سے انسان جلد از جلد خدا کی قربت کو حاصل کرسکتا ہے کیونکہ یہ نمازیں، واجب نمازوں میں جو کمیاں رہ جاتی ہیں ’’حضور قلب اور  نماز میں توجہ کے کم ہونے کے  اعتبار سے‘‘ انہیں پورا کرتی ہیں، جس کے بارے میں امام صادق(علیہ السلام) فرمارتے ہیں: « كُلُّ سَهْوٍ فِي الصَّلَاةِ  يُطْرَحُ  أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُتِمُّ بِالنَّوَافِل[۲]‏نماز میں جو بھی بھول چوک ہوتی ہے، اللہ تعالی اس کو نوافل کے ذریعہ پورا کرتا ہے»۔
     مستحب نمازیں، بہت زیادہ ہیں اور انہیں نوافل بھی کہتے ہیں۔ مستحب نمازوں میں دن رات کی نافلہ نمازیں پڑھنے کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور وہ روز جمعہ کے علاوہ ٣٤،رکعتیں ہیں۔ جن میں سے ٨،رکعت نافلہ ظہر، ٨،رکعت نافلہ عصر، ٤،رکعت نافلہ مغرب، ٢،رکعت نافلہ عشا، ١١،رکعت نافلہ شب اور دو رکعت نافلہ صبح ہیں، ان سب میں سب سے زیادہ فضیلت نماز شب کو حاصل ہے جس کے بارے میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرما رہے ہیں: « إِذَا قَامَ‏ الْعَبْدُ مِنْ‏ لَذِيذِ مَضْجعِهِ‏ وَ النُّعَاسُ‏ فِي‏ عَيْنَيْهِ‏ لِيُرْضِيَ رَبَّهُ جَلَّ وَ عَزَّ بِصَلَاةِ لَيْلِهِ بَاهَى اللَّهُ بِهِ مَلَائِكَتَهُ فَقَالَ أَمَا تَرَوْنَ عَبْدِي هَذَا قَدْ قَامَ مِنْ لَذِيذِ مَضْجَعِهِ إِلَى صَلَاةٍ لَمْ أَفْرِضْهَا عَلَيْهِ اشْهَدُوا أَنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَه‏[۳] جب بندہ کی آنکھوں میں نیند ہوتی ہے اور وہ  اپنی پسندیدہ نیند کو چھوڑ کر اپنے بستر سے خدا کو راضی کرنے کے لئے نماز شب پڑھنے کے لئے اٹھتا ہے تو اللہ اپنے ملائکہ پر فخر اور مباہات کرتا ہے، اور کہتا ہے کیا تم لوگ میرے بندے کو نہیں دیکھ رہے ہو جو اپنے پسندیدہ بستر کو چھوڑ کر اس نماز کے لئے کھڑا ہوا ہے جو میں نے اس پر فرض قرار نہیں دی، تم لوگ گواہ رہنا کہ یقینا میں نے اسے بخش دیا ہے»۔
     اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « اَللَّهُمَّ وَفِّرْ حَظّى فیهِ مِنَ النَّوافِلِ؛ خدایا اس میں مستحبات میں میرا زیادہ حصہ عطا کر»۔
     انسان کی کرامت اس میں ہے کہ جس چیز کو وہ چاہتا ہے اسے حاصل کرتا ہے، انسان کے ’’مسائل‘‘ اگر پورے نہیں ہوئے اگر اس کی خلقت کا مقصد پورا نہ ہوا تو اس وقت انسان کے اندر ایک قسم کی سستی پیدا ہوجاتی ہے، اسی لئے ہم کو جو چیز چاہئے اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے تاکہ اسے حاصل کرسکیں، اپنے مقصد تک پہونچنےکے لئے ’’وسیلہ‘‘ بھی ضروری ہے لیکن وسیلہ کو اپنانا چاہئے جو ہم کو خدا سے نزدیک کرے،کیونکہ ہمارا مقصد خدا کی قربت کو حاصل کرنا ہے، اگر ہمیں خدا کی قربت حاصل کرنی ہے تو اسکا وسیلہ نیک اعمال کی بجاآور اور تقوے کا اختیار کرنا اور صراط مستقیم پر قائم رہنا ہے۔
     اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ اََكِرْمنى فیهِ بِاِحْضارِ الْمَسآئِلِ وَ قَرِّبْ فیهِ وَ سیَلتى اِلَیْكَ مِنْ بَیْنِ الْوَسائِلِ؛ اور مجھ کو مکرم بنا مسائل کے حاضر کرنے کے ذریعہ، اور میرے وسیلہ کو اپنی طرف کے وسائل میں قریب کر»۔
     خدا سب کی دعاؤں کو سنتا ہے اور قبول بھی کرتا ہے، یہ ہمارا عیب ہے کہ اگر ایک کام کو انجام دیتے ہیں تو دوسرے کام کو انجام نہیں دے سکتے، ہماری توجہ صرف ایک جانب رہتی ہے، ایک طرف متوجہ ہوتے ہیں تو دسری جانب سے غافل ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم محدود ہیں، لیکن خدا کی ذات محدود نہیں ہے اسی لئے کوئی بھی کام اسے مشغول نہیں کرتا، امام علی(علیہ السلام) سے کسی نے پوچھا: خدا قیامت میں تمام بندوں کا محاسبہ کس طرح کریگا؟ امام(علیہ السلام) نے فرمایا: جس طرح دنیا میں ان لوگوں کو رزق دیتا ہے، بعض کو رزق دینے سے، دوسرے لوگ محروم نہیں رہ جاتے۔[۴]
     اگر ہم خدا سے طلب کرینگے تو یقینا وہ ہمیں بھی دوسروں کے ساتھ عطا کرنے والا ہے، اور کوئی بھی چیز اس کے عطاء کرنے میں مانع نہیں ہوتی کیونکہ: « یا مَنْ لایَشْغَلُهِ الْحاحُ الْمُلِحّینَ؛ اے وہ خدا جس کو لجاجت کرنے والوں کی لجاجت مشغول نہیں کرتی ہے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔ ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۶۔
[۲]۔ محمد بن يعقوب كلينى،  الكافي، دار الكتب الإسلامية، ۱۴۰۷ ق،ج۳، ص۲۶۸.
[۳]۔ محمد باقر مجلسى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ ق، ج۸۴،ص۱۵۶.
[۴]۔ «سُئِلَ علی(علیہ السلام) كَيْفَ‏ يُحَاسِبُ‏ اللَّهُ‏ الْخَلْقَ‏ عَلَى‏ كَثْرَتِهِمْ‏ فَقَالَ (علیہ السلام) كَمَا يَرْزُقُهُمْ عَلَى كَثْرَتِهِم‏»۔ محمد بن حسين شريف الرضى، نهج البلاغة (للصبحي صالح)، هجرت، ۱۴۱۴ ق، ص۵۲۸.

بدھ، 20 مئی، 2020

ستائیسویں ماه مبارك رمضان کی دعاکی مختصر شرح

خلاصہ: شب قدر، وہ فضیلت والی رات ہے جس میں خدا اپنے توبہ کرنے والے بندہ کو معاف کردیتا ہے۔ جب بندہ تونہ کرتا ہے تو خدا جواب میں کہتا ہے کہ میں بہت بخشنے والا ہوں۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ ارْزُقْنى فیهِ فَضْلَ لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَ صَیِّرْ اُمُورى فیهِ مِنَ الْعُسْرِ اِلَى الْیُسْرِ وَ اقْبَلْ مَعاذیرى وَ حُطَّ عَنِّى الذَّنْبَ وَ الْوِزْرَ یا رَؤُفاً بِعِبادِهِ الصَّالِحینَ. [۱]
خدایا اس میں شب قدر کی فضیلت میرے حصہ میں قرار دے، اور میرے امور کو مشکل سے آسانی کی طرف لے جا، اور میرے عذر کو قبول کر لے، اور میرے گناہ اور بوجھ کو ختم کر دے, اے نیک بندوں پر مہربان۔
     شب قدر، سال کی سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والی رات ہے. مسلمانوں کے اعتقادات کے مطابق، شب قدر پورے سال کی راتوں میں مخفی رکھی گئی ہے اور دقیق یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ کون سی رات شب قدر ہے. زیادہ احتمال یہ دیا جاتا ہے کہ یہ رات رمضان المبارک کی انیس، اکیس یا تئیسویں رات ہو سکتی ہے.
     اس رات کی فضیلیت و اہمیت کی کئی ایک وجوہات ہیں، جیسے قرآن کا نازل ہونا، اسی رات کو محکم امور کا مقدر کیا جانا. اللہ تعالی کی طرف سے اس رات کو  مسلمانوں کے کیے ہوئے گناہ معاف کیے جاتے ہیں اگر وہ توبہ کرلیں، اسی وجہ سے اس رات میں جاگنے اور عبادت و نماز و دعا اور استغفار کی بہت تاکید کی گئی ہے.
     اسی لئے ہم آج خداوند متعال کی بارگاہ میں دعا گو ہیں: « اَللَّهُمَّ ارْزُقْنى فیهِ فَضْلَ لَیْلَةِ الْقَدْرِ؛ خدایا اس میں شب قدر کی فضیلت میرے حصہ میں قرار دے»۔
    خداوند عالم اپنے بندوں کے لئے سختی نہیں چاہتا بلکہ وہ ان کے لئے آسایش اور سکون کو چاہتا ہے، جس کے بارے میں خود قرآن مجید میں فرما رہا ہے: « یُرِیدُ اللّهُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلاَ یُرِیدُ بِکُمُ الْعُسْرَ[سورۂ بقرہ،آیت: ۱۸۵] خدا تمہارے بارے میں آسانی چاہتا ہے زحمت نہیں چاہتا»، کیونکہ خداوند عالم  نے انسان کو ناتواں خلق کیا ہے جس کی وجہ سے وہ انسان پر رحم کرتا ہے جیسا کہ قرآن میں فرما رہا ہے: « یُرِیدُ اللَّهُ أَنْ یُخَفِّفَ عَنْکُمْ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِیفًا[سورۂ نساء، آیت:۲۸] خدا چاہتا ہے کہ تمہارے لئے تخفیف کا سامان کردے اور انسان تو کمزو ر ہی پیدا کیا گیا ہے»، خداوند عالم اپنے بندوں کے عذر کو قبول کرتا ہے اور انہیں معاف کرتا ہے کیونکہ بندہ جب خدا کی بارگاہ میں کریہ و زاری کرتا ہے: « رَبِ‏ إِنِّي‏ ظَلَمْتُ‏ نَفْسِي‏ فَاغْفِرْ لِي‏[۲] اے پروردگا میں نے اپنے اوپر ظلم کیا مجھے بخش دے، خدا بھی اس کے جواب میں کہتا ہے: « نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ[سورۂ حجر، آیت:۴۹] میرے بندوں کو خبر کردو کہ میں بہت بخشنے والا اور مہربان ہوں»۔
    خداوند عالم  نے توبہ کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے والا بہترین اور آسان نسخہ تجویز فرمایا ہے تاکہ انسان، گناہوں میں مبتلا ہونے کے بعد توبہ کی برکت سے مغفرت کا اہل اور نجات کا مستحق بن جائے، خوش نصیب ہے وہ بندہ جو اس باب رحمت کی قدر کرے اس کی سہولت سے فائدہ اٹھائے اور اس عنایت پروردگار کا شکریہ ادا کرے، اس کے برخلاف، بد نصیب وہ ہے جو اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھاسکے، روز قیامت جب بندوں سے حساب اور کتاب کیا جائے گا اور ان کے اعمال کے متعلق پوچھا جائے گا تو یہ بدنصیب بندے کہیں گے پروردگارا! میں ناداں اور بے خبر تھا اپنی شہوت اور غضب، خواہشات نفسانی کا اسیر تھا اور میں شیطان کے وسوسوں کے سامنے بے بس تھا تو خدواند عالم جواب میں فرمائے گا، کیا تم پر کوئی ایسی ذمہ داری ڈال دی گئی تھی جو تمہاری قوت و استطاعت سے باہر تھی؟ کیا میں نے توبہ کے بارے میں سخت شرائط عائد کئے تھے؟ تو بندہ جواب میں عرض کرے گا: « إِلَهِي ارْحَمْنِي إِذَا انْقَطَعَتْ حُجَّتِي وَ كَلَّ عَنْ جَوَابِكَ لِسَانِي‏ وَ طَاشَ‏ عِنْدَ سُؤَالِك‏[۳] خدایا میری حالت پر رحم فرما، تو نے میرے حیلہ اور حجت کا خاتمہ کر دیا، تجھے جواب دینے میں میری زبان کام نہیں کرتی، تیرے سوالات سے میرے دل پر دہشت طاری ہوئی ہے اس لئے جواب سے قاصر ہے»۔
     اسی لئے ہم خدا کی بارگاہ میں دعاگو ہیں: « وَ صَیِّرْ اُمُورى فیهِ مِنَ الْعُسْرِ اِلَى الْیُسْرِ وَ اقْبَلْ مَعاذیرى وَ حُطَّ عَنِّى الذَّنْبَ وَ الْوِزْرَ یا رَؤُفاً بِعِبادِهِ الصَّالِحینَ؛ اور میرے امور کو مشکل سے آسانی کی طرف لے جا، اور میرے عذر کو قبول کر لے، اور میرے گناہ اور بوجھ کو ختم کر دے اے نیک بندوں پر مہربان »۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۶۔
[۲]۔ محمد باقر مجلسى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي،۱۴۰۳ ق، ج۱۳،ص۳۲.
[۳]۔ محمد بن الحسن طوسى، مصباح المتهجّد و سلاح المتعبّد، مؤسسة فقه الشيعة، ۱۴۱۱ ق، ج۲، ص۵۹۲.

منگل، 19 مئی، 2020

چھبیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: جو شخص غیبت کرتا ہے، قیامت کے دن اسکے نامۂ اعمال میں سے تمام نیکیوں کو محو کردیاجائے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
َاللَّهُمَّ اجْعَلْ سَعْیى فیهِ مَشْكُوراً وَ ذَنْبى فیهِ مَغْفُوراً وَ عَمَلى فیهِ مَقْبُولاً وَ عَیْبى فیهِ مَسْتُوراً یا اَسْمَعَ السَّامِعینَ.[۱]
خدایا میری کوشش کو اس میں مقبول بنا دے، اور میرے گناہوں کو بخش دے اور عمل کو مقبول کردے، اور میرے عیب کو پوشیدہ کر دے، اے سب سے زیادہ سننے والے۔
 انسان ماہ مبارک رمضان میں زحمت کرتا ہے، روزے رکھتا ہے، بھوک اور پیاس کو تحمل کرتا ہے، کھانہ نہیں کھاتا، پانی نہیں پیتا، کم سوتا ہے، اگر خدا کی بارگاہ میں یہ سب قبول نہ ہوں تو اسکی سب زحمتیں بیکار اور رایگاں چلی جائینگی، اس لئے ہم خدا سے دعا کر رہے ہیں کہ ہماری عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطا فرمائے لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا اپنی اتنی رحمت کے باوجود ہماری ان زحمتوں کو کیوں قبول نہیں کریگا، تو اسکے جواب میں یہ کہا جائیگا کہ خدا نے ہی کہا ہے اگر تم اپنے اعمال کو بچانا چاہتے ہو تو بعض کاموں سے تمھہیں بچنا ہوگا، جن میں سے ایک مثال کے طور پر غیبت کرنا ہے، غیبت کے بارے میں رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)سے روایت ہے : « يُؤْتَى‏ بِأَحَدٍ يَوْمَ‏ الْقِيَامَةِ يُوقَفُ‏ بَيْنَ‏ يَدَيِ‏ اللَّهِ‏ وَ يُدْفَعُ‏ إِلَيْهِ‏ كِتَابُهُ فَلَا يَرَى حَسَنَاتِهِ فَيَقُولُ إِلَهِي لَيْسَ هَذَا كِتَابِي فَإِنِّي لَا أَرَى فِيهَا طَاعَتِي فَيُقَالُ لَهُ إِنَّ رَبَّكَ لَا يَضِلُّ وَ لَا يَنْسَى ذَهَبَ عَمَلُكَ بِاغْتِيَابِ النَّاسِ ثُمَّ يُؤْتَى بِآخَرَ وَ يُدْفَعُ إِلَيْهِ كِتَابُهُ فَيَرَى فِيهَا طَاعَاتٍ كَثِيرَةً فَيَقُولُ إِلَهِي مَا هَذَا كِتَابِي فَإِنِّي مَا عَمِلْتُ هَذِهِ الطَّاعَاتِ فَيُقَالُ لِأَنَّ فُلَاناً اغْتَابَكَ فَدُفِعَتْ حَسَنَاتُهُ إِلَيْكَ[۲] قیامت کے دن تم میں سے کسی ایک کو محشر کے میدان میں حساب اور کتاب کے لئےحاضر کیا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے ہاتھ میں دیا جائے گا جب وہ اس کو دیکھے گا تو اس نے جو نیک کام  انجام دئے ہیں وہ اس  میں لکھے ہوئے نہ ہونگے، وہ عرض کریگا: اے پروردگار! یہ نامہ اعمال میرا نہیں ہے کیونکہ میں نے جو اعمال انجام دئے ہیں وہ اس میں نہیں ہیں۔ اس سے کہا جائےگا تیرا پروردگار نہ گمراہ ہے اور نہ بھولتا ہے، یہ اس شخص کا نامہ اعمال ہے جس کی تو نے غیبت کی تھی، اس کے بعد دوسرے شخص کو لایا جائے گا اور اسکا نامہ اعمال اس شخص کے ہاتھ میں دیدیا جائے گا، جب وہ اپنے نامہ اعمال کو دیکھے گا تو اس میں بہت زیادہ اطاعتیں لکھے ہوئی ہونگی، وہ کہے گا پروردگار یہ میرا نامہ اعمال نہیں ہے، جو نیک کام یہاں لکھے ہوئے ہیں، میں نے دنیا میں انہیں انجام نہیں دیا ہے، اس سے کہا جائے گا کیونکہ اس شخص نے تیری غیبت کی تھی اس لئے اس کے نیک اعمال تیرے نامہ اعمال میں لکھ دئے گئے ہیں».
     ایسے شخص کے بارے میں خداوند عالم ارشاد فرما رہا ہے کہ یہ سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا شخص ہے: « قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالاً الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعاً[سورۂ حشر، آیت:۱۰۳و۱۰۴]پیغمبر کیا ہم آپ کو ان لوگوں کے بارے میں اطلاع دیں جو اپنے اعمال میں بدترین خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں»۔
     اسی لئے آج کے دن خداوند عالم سے دعا مانگ رہے ہیں کہ ہم کو ان لوگوں میں قرار نہ دے جن کے نیک اعمال ان کے نامہ اعمال میں لکھے نہیں جائیںگے: « َاللَّهُمَّ اجْعَلْ سَعْیى فیهِ مَشْكُوراً وَ ذَنْبى فیهِ مَغْفُوراً وَ عَمَلى فیهِ مَقْبُولاً؛ خدایا میری کوشش کو اس میں مقبول بنا دے، اور میرے گناہوں کو بخش دے اور عمل کو مقبول کر دے»۔
     خدا، خود ستارالعیوب ہے، وہ پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے عیوب کو بیان کیا جائے اور لوگوں کے عیب فاش کئے جائیں اور ان کی عزت و آبرو برباد کی جائے، ہم جانتے ہیں کہ ہر انسان کے عام طور پر کچھ نہ کچھ کمزور اور مخفی پہلو ہوتے ہیں، اگر یہ عیب ظاہر ہو جائیں تو پورے معاشرے میں غیر اعتمادی کی ایک ایسی فضا پیدا ہوجائے گی کہ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرینگے۔
     اسی لئے آج کے دن ہم خداوند متعال سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ عَیْبى فیهِ مَسْتُوراً یا اَسْمَعَ السَّامِعینَ؛ اور میرے عیب کو پوشیدہ کر دے، اے سب سے  زیادہ سننے والے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۶۔
[۲]۔محمد باقر مجلسى،  بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ ق، ج۷۲، ص۲۵۹.

پچیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: انسان اس کے ساتھ محشور ہوتا ہے جس سے محبت کرتا ہے، اب چاہے وہ اچھے ہوں یا برے۔
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ اجْعَلْنى فیهِ مُحِبّاً لاَوْلِیآئِكَ وَ مُعادِیاً لاَعْدآئِكَ مُسْتَنّاً بِسُنَّةِ خاتَمِ اَنْبیآئِكَ یا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِیّینَ. [۱]
خدایا مجھ کو اس میں اپنے دوستوں کا دوست اور اپنے دشمنوں کا دشمن قرار دے، اور اپنے خاتم الانبیاء کی سنت کا پابند بنا دے، اے پیغمبروں کے دلوں کی حفاظت کرنے والے.
     صرف خدا کی محبت حقیقی محبت ہے، خداوند عالم کا حقیقی دوست اس کے ارادہ کو اپنے ارادہ پر مقدم رکھتا ہے، اور دوسروں سے بھی اس لئے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ خدا سے محبت کرتے ہیں، اور یہی ایمان کی بلندی کا سبب ہے۔ جس کے بارے میں امام صادق(علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « لَا يَبْلُغُ أَحَدُكُمْ‏ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ‏ حَتَّى‏ يُحِبَ‏ أَبْعَدَ الْخَلْقِ مِنْهُ فِي اللَّهِ وَ يُبْغِضَ أَقْرَبَ الْخَلْقِ مِنْهُ فِي اللَّهِ[۲] تم میں سے کوئی بھی ایمان کی حقیقت تک نہیں پھونچ سکتا یہاں تک کہ اپنے سے دورترین مخلوق سے خدا کے لئے محبت کرے اور اپنے نزدیک ترین مخلوق سے خدا کے لئے نفرت کرے»۔
     اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ  میں آرہا ہے کہ ہمیں ان لوگوں سے محبت کرنی چاہئے، جو خدا سے محبت کرتے ہیں، جو خدا کے مخلص اور نیک بندے ہیں، جن لوگوں نے کبھی بھی خدا کی نافرمانی نہیں کی، سوال یہ ہے کہ خدا کے وہ مخلص اور نیک بندے کون ہیں جو پوری طریقہ سے خدا کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے جواب میں ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ وہ صرف اور صرف انبیاء اور  معصومین(علیہم السلام) ہیں جنھوں نے مکمل طریقہ سے اللہ کی اطاعت کی، ان لوگوں کی اطاعت کی بناء پر خدا نے ان لوگوں سے محبت کرنے کو ہم لوگوں پر فرض قرار دیا ہے کیونکہ ہم خدا کے خالص بندوں کی محبت کے ذریعہ خدا کی رضایت کو حاصل کرسکتے ہیں جیسے خداوند عالم قرآن مجید میں فرما رہا ہے: « قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ[سورۂ آل عمران، آیت:۳۱] اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، خدا بھی تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے»۔
     شیطان وہ اکیلیی مخلوق ہے جس نےخدا کی نافرمانی کا ارادہ کیا اور اپنے تکبر اور غرور کی بناء پر خدا کی نافرمانی کی اور خدا کی دشمنی میں مشھور ہے( اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ خداوند متعال کی ذات اقدس اس مقام پر ہے کہ کسی موجود میں اتنی توانائی نہیں ہے کہ وہ اس سے دشمنی کرسکے)کیونکہ شیطان نے خدا کی نافرمانی کی اس لئے وہ خدا کے دشمنوں میں سے ہے اور اب جو بھی شیطان کی پیروری کریگا اسکا شمار بھی خدا کی نافرمانی کرنے والوں میں ہوگا، جیسا کے خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرمارہا ہے: « يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ[سورۂ بقرہ، آیت:۲۰۸] ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے»۔
    اسی لئے ہم آج کے دن دعا کررہے ہیں: « اَللَّهُمَّ اجْعَلْنى فیهِ مُحِبّاً لاَوْلِیآئِكَ وَ مُعادِیاً لاَعْدآئِكَ؛ خدایا مجھ کو اس میں اپنے دوستوں کا دوست اور اپنے دشمنوں کا دشمن قرار دے»۔
     سنت میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر قول، فعل اور تقریر شامل ہے، یہ مسلمانوں کے نزدیک اعتقادات، عبادات اور احکامات کا دوسرا بڑا ماخذ ہے، جس کے بارے میں خداوند عالم ارشاد فرمارہاہے: « وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا[سورۂ حشر،آیت:۷] جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ»۔
     اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا مانگ رہے ہیں : « مُسْتَنّاً بِسُنَّةِ خاتَمِ اَنْبیآئِكَ یا عاصِمَ قُلُوبِ النَّبِیّینَ؛ اور اپنے خاتم الانبیاء کی سنت کا پابند بنا دے، اے پیغمبروں کے دلوں کی حفاظت کرنے والے»۔
نتیجہ : اس حدیث کے ذریعہ آج کی بیان کو تمام کیا جارہا ہے جس میں امام جعفرصادق(علیہ السلام) ہمارے لئے خدا کی حقیقی محبت تک پہونچنے کے لئے بہترین راستہ کو بیان فرما رہے ہیں: « إِذَا أَرَدْتَ‏ أَنْ‏ تَعْلَمَ‏ أَنَّ فِيكَ خَيْراً فَانْظُرْ إِلَى قَلْبِكَ فَإِنْ كَانَ يُحِبُّ أَهْلَ طَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ يُبْغِضُ أَهْلَ مَعْصِيَتِهِ فَفِيكَ خَيْرٌ وَ اللَّهُ يُحِبُّكَ وَ إِذَا كَانَ‏ يُبْغِضُ أَهْلَ طَاعَةِ اللَّهِ وَ يُحِبُّ أَهْلَ مَعْصِيَتِهِ فَلَيْسَ فِيكَ خَيْرٌ وَ اللَّهُ يُبْغِضُكَ وَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَب‏[۳] اگر جاننا چاہو کہ تمہارے اندر خیر ہے (اچھےانسان ہو تو) اپنے قلب پر ایک نگاہ ڈالو اور دیکھو اگر تمہارا دل ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اللہ کے مطیع و فرمانبردار ہیں اور اللہ کے نافرمانوں سے بيزار ہے اور انہیں دشمن سمجھتا ہو تو جان لو کہ تم اچھے انسان ہو اور اللہ بھی تم سے محبت کرتا ہے اور اگر تم اہل اطاعت کو دشمن رکھتے ہو اور اس کے دشمنوں سے محبت کرتے ہو تو جان لو کہ تمہارے اندر کچھ بھی نہیں ہے اور خدا بھی تمہیں دشمن رکھتا ہے، اور انسان ہمیشہ اس کے ساتھ ہے جس سے وہ زیادہ محبت کرتا ہے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۶۔
[۲]۔ محمد باقر مجلسى،  بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي،۱۴۰۳ق، ج۷۵، ۲۵۲.
[۳]۔ بحار الأنوار، ج۶۶، ص۲۴۷.

اتوار، 17 مئی، 2020

چوبیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: اگر خدا کی مرضی کو حاصل کرنا ہے اور اس کے عذاب سے بچنا ہے تو اس کی اور رسول(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ فیهِ ما یُرْضیكَ وَ اَعُوذُبِكَ مِمَّا یُؤْذیكَ وَ اَسْئَلُكَ التَّوْفیقَ فیهِ لاَنْ اُطیعَكَ وَ لا اَعْصِیَكَ یا جَوادَ السَّآئِلینَ. [۱]
خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس میں اس چیز کا جو تجھ کو پسند ہو، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے جو تجھ کو اذیت دے، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں توفیق کا تاکہ میں تیری اطاعت کروں، اور معصیت نہ کروں، اے سوال کرنے والوں کو عطا کرنے والے۔

     ہر مسلمان اپنے لحاظ سے اعمال کو انجام دیتا ہے تاکہ ان اعمال کے ذریعہ خدا کی رضایت کو حاصل کرے لیکن یہاں پر ہر مسلمان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کونسے اعمال ہیں جن کی وجہ سے خدا راضی ہوتا ہے، اس کے جواب میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر وہ کام جس کا خدا نے حکم دیا ہے اسے انجام دیا جائے تو خدا  ان سے راضی ہوجائے گا، مثال کے طور پر، مؤمنین کی مدد کرنا، نماز کو قائم کرنا، یتیموں کی سرپرستی کرنا، اور ان جیسی سب چیزوں کے ذریعہ، جن کا خدا نے حکم دیا ہے، خدا کی رضا کو حاصل کیا جاسکتا ہے، جس کے بارے میں امام زین العابدین (علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « مَنْ‏ عَمِلَ‏ بِمَا افْتَرَضَ‏ اللَّهُ عَلَيْهِ فَهُوَ مِنْ خَيْرِ النَّاس[۲] جو کوئی ان چیزوں کو انجام دے جن کو خدا نے واجب قرار دیا ہے وہ بہترین  لوگوں میں سے ہے»۔
     اور جن کاموں کے کرنے کے لئے خدا نے منع کیا ہے ان کو انجام نہ دیا جائے۔ مثال کے طور پر جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، لوگوں پر تہمت لگانا، فحاشی کرنا وغیرہ، جب انسان اس طرح کے کاموں کو انجام دیتا ہے تو خداوند عالم کے عذاب کا شکار ہوتا ہے، جس کے بارے میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرما رہے ہیں: « إِنَ‏ اللَّهَ‏ حَرَّمَ‏ الْجَنَّةَ عَلى‏ كُلِّ فَحَّاشٍ بَذِي‏ءٍ، قَلِيلِ الْحَيَاءِ، لَايُبَالِي مَا قَالَ، وَ لَامَا قِيلَ لَه[۳] ‏خدا نے  جنت کو ہر اس شخص پر حرام قرار دیا ہے جو فحاشی(گالی دینا) کرتا ہے، اور جس کی حیاء کم ہوگئی ہے، اور اسے یہ فکر نہیں ہوتی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور اس کے بارے میں کیا کہا جارہا ہے»۔  یہ ان بعض چیزوں میں سے ہے جن کو خدا نے انجام دینے سے منع کیا ہے۔
     اسی لئے ہم آج کی دن اپنے پرودگار سے دعا مانگ رہے ہیں: « اَللَّهُمَّ اِنّى اَسْئَلُكَ فیهِ ما یُرْضیكَ وَ اَعُوذُبِكَ مِمَّا یُؤْذیكَ؛ خدایا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس میں اس چیز کا جو تجھ کو پسند ہو، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے جو تجھ کو اذیت دے»۔
     اگر انسان سعادت کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو چاہئے کہ وہ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے کیونکہ رسول، خدا کی جانب سے بھیجے ہوئے پیغمبر ہیں جو اللہ  کے بتائے ہوئے احکام کو لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں، اگر کسی نے رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی اطاعت نہیں کی تو گویا اس نے خدا کے احکام کی اطاعت نہیں کی اور جس نے خدا کی اطاعت نہیں کی وہ شیطان کی پیروری کرنے ولوں میں سے ہے اور جو شیطان کی پیروی کرتا ہے وہ کافر ہے، جس کے بارے میں خود خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرمارہا ہے: « قُلْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْكَافِرِينَ[سورۂ آل عمران، آیت:۳۲] کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو کہ جو اس سے روگردانی کرے گا تو خدا کافرین کو ہرگز دوست نہیں رکھتا ہے»۔ جو کوئی اللہ کے رسول کی اطاعت نہ کرے وہ کافروں میں سے ہے اور کافر، خدا کی رحمت سے دور ہوتا ہے اور خدا اس کی ہدایت نہیں کرتا، جس کے بارے میں خدا ارشاد فرما رہا ہے: « وَاللّهُ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ[سورۂ بقرہ،آیت:۲۶۴] اللہ، کافروں کی ہدایت بھی نہیں کرتا»۔
     اسی لئے ہم دعا مانگ رہے ہیں: « وَ اَسْئَلُكَ التَّوْفیقَ فیهِ لاَنْ اُطیعَكَ وَ لا اَعْصِیَكَ یا جَوادَ السَّآئِلینَ؛ اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں توفیق کا تاکہ میں تیری اطاعت کروں،  اور معصیت نہ کروں، اے سوال کرنے والوں کو عطا کرنے والے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۶۔
[۲]۔ محمد بن يعقوب كلينى، الكافي، دار الكتب الإسلامية، ۱۴۰۷ ق، ج۲ ص۸۱.
[۳]۔ الكافي, ج۴، ص۸.

تیئیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: جب انسان اپنے آپ کو گناہوں اور عیبوں سے صاف کرلیتا ہے اس وقت اس کا دل تقوی حاصل کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ اغْسِلْنى فیهِ مِنَ الذُّنُوبِ وَ طَهِّرْنى فیهِ مِنَ الْعُیُوبِ وَ امْتَحِنْ قَلْبى فیهِ بِتَقْوَى الْقُلُوبِ یا مُقیلَ عَثَراتِ الْمُذَنِبینَ.[۱]
خدایا مجھ کو اس میں گناہوں سے پاکیزہ کردے، اور عیبوں سے صاف کردے، اور میرے دل کا امتحان تقوی کے ذریعہ لے کر مرتبہ عطا کردے، اےگنہگاروں کی لغزشوں کے معاف کرنے والے۔
  گناہ ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو خیر و برکت سے محروم کردیتی ہے، لہٰذا انسان کو دعا کرنے سے پہلے استغفار کرنا چاہئے کیونکہ گناہ، دعا کے قبول نہ ہونے کا سبب واقع ہوتا ہے، جیسا کہ ہم دعائے کمیل میں پڑھتے ہیں: « اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ الَّتِي تَحْبِسُ‏ الدُّعَاء فأَسْأَلُكَ بِعِزَّتِكَ أَنْ لَا يَحْجُبَ عَنْكَ دُعَائِي سُوءُ عَمَلِي وَ فَعَالِي‏[۲] بار الٰہا! میرے ان گناہوں کو معاف کردے جو دعا کے قبول ہونے میں مانع واقع ہوتے ہیں …بار الٰہا! میں تیرے جلال و عزت کی قسم کھاتا ہوں اور تجھ سے یہ چاہتا ہوں کہ میری بدکرداری اور بدرفتاری کو اپنی بارگاہ میں دعا کے قبول ہونے کے لئے مانع قرارنہ دے»۔
 جب انسان اپنے آپ کو گناہ کی گندگی سے پاک کرتا ہے، اسی وقت وہ خدا کی قربت کو حاصل کرسکتا ہے، جو کہ انسان کی خلقت کا مقصد ہے، اسی لئے ہم خدا کی بارگاہ میں دعا کر رہے ہیں: « اَللَّهُمَّ اغْسِلْنى فیهِ مِنَ الذُّنُوبِ؛ خدایا مجھ کو اس میں گناہوں سے پاکیزہ کردے»۔
     انسان جب پیدا ہوتا ہے تو تمام عیوب سے پاک پیدا ہوتا ہے، آہستہ آہستہ وہ گناہ کے ذریعہ اپنے آپ کو  معیوب کرتا چلا جاتا ہے، عیوب کئی طریقہ کے ہیں، جن میں سے کچھ، زبان کے عیب ہیں جیسے گالی دینا، تہمت لگانا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، دوسروں کی شخصیت کو پامال کرنا۔۔ اسی طرح دل کے عیب جیسے حسد، بخل، کینہ، بغض، وغیرہ۔ اسی طرح،  روح کے عیب جیسےخود کو بڑا سمجھنا، تکبر، غرور وغیرہ۔ جب انسان کے اندر یہ گناہ راسخ ہوجاتے ہیں تو اس سے بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، اسی لئے بہتر ہے کہ انسان اپنے آپ کو ان عیوب سے پاک اور صاف رکھے۔
     امام علی(علی السلام) عیب کے بارے میں ارشاد فرما رہے ہیں: « أَکْبَرُ الْعَیْبِ أَنْ تَعِیبَ مَا فِیکَ مِثْلُه[۳] سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ خود میں جو عیب پایا جاتا ہے اسکو دوسروں میں ڈھونڈنا»۔
     آج کے دن ہم اپنے تمام عیوب سے معافی مانگتے ہوئے دعا گو ہیں: « وَ طَهِّرْنى فیهِ مِنَ الْعُیُوبِ؛اور عیبوں سے صاف کردے»۔
     اچھائی اور برائی دونوں کی جگہ انسان کا دل ہے، خدا اور اسکے بھیجے ہوئے اولیاء کی محبت یا دنیا کی محبت، سب اسی دل میں بستی ہے، روایت میں آیا ہے کہ مؤمن کا دل عرش رحمن ہے جس میں خدا کی محبت بستی ہے اور اس کے مقابلہ میں منافق کے دل میں شیطان بسا کرتا ہے، اسی لئے دل کا تقوی ضروری ہے۔ قرآن مجید میں اس کے بارے خداوند عالم  ارشاد فرما رہا ہے: « یَوْمَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَ لَا بَنُونَ. إِلَّا مَنْ أَتىَ اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِیمٍ[سورهٔ شعرا، آیت:۸۸- ۸۹] جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو»، اس کے بارے میں امام علی(علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « یَا بُنَیَّ إِنَّ مِنَ الْبَلَاءِ الْفَاقَةَ وَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِکَ مَرَضُ الْبَدَنِ وَ أَشَدُّ مِنْ ذَلِکَ مَرَضُ الْقَلْبِ وَ إِنَّ مِنَ النِّعَمِ سَعَةَ الْمَالِ وَ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِکَ سَعَةُ الْبَدَنِ وَ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِکَ تَقْوَى القلوب[۴] اے میرے بیٹے! فقر اور تنگ دستی، بلاؤں میں سے ہے، اور فقر سے سخت جسم کی بیماری ہے، اور جسم کی بیماری سے سخت دل کی بیماری ہے، مال اور دولت دنیا کی نعمتوں میں سے ہے، اور مال اور دولت سے بہتر بدن کا صحیح اور سالم رہنا ہے اور بدن کے صحیح اور سالم  رہنے سے بہتر  دلوں کا تقوی اختیار کرنا ہے».
     خداوند متعال ہم سب کو شیطان کے وسوسوں سے اور نفسانی خواہشوں سے محفوظ رکھے، اسی لئے ہم آج کے دن پروردگار عالم سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ امْتَحِنْ قَلْبى فیهِ بِتَقْوَى الْقُلُوبِ یا مُقیلَ عَثَراتِ الْمُذَنِبینَ؛ اور میرے دل کا امتحان تقوی  کے ذریعہ لے کر مرتبہ عطا کردے، اےگنہگاروں کی لغزشوں کے معاف کرنے والے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۵۔
[۲]۔ المصباح للکفعمی, ص۵۵۵۔
[۳]۔محمد بن حسين شريف الرضى، نهج البلاغة (للصبحي صالح)، هجرت ، ۱۴۱۴ ق،ص۵۳۶.
[۴] محمد باقر مجلسى،  بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي، ۱۴۰۳ ق، ج۱، ص۸۸.

ہفتہ، 16 مئی، 2020

بائیسویں ماہ مبارک رمضان کی دعاکی مختصر شرح

خلاصہ: اگر ہم واجبات کو انجام دینگے اور حرام کاموں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنگے، تو خدا ہم پر اپنے فضل کے ذریعہ برکتوں کو نازل فرمائے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ اَبْوابَ فَضْلِكَ وَ اَنْزِلَ عَلَىَّ فيهِ بَرَكاتِكَ وَ وَفِّقْنى فيهِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِكَ وَ اَسْكِنّى فيهِ بُحْبُوحاتِ جَنَّاتِكَ يا مُجيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرّينَ.[۱]
خدایا اس دن میرے لۓ اپنے فضل کے دروازے کھول دے، اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما، اور مجھ کو اس میں توفیق دے اپنی مرضی کے اسباب کی, اور جنت کے بیچ میں میرا مسکن قرار دے، اے پریشان لوگوں کی دعاؤں کے قبول کرنے والے۔
     خداوند متعال کے بہت زیادہ اسماء اور صفات ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ خدا عادل ہے یعنی وہ اپنے دقیق معیار کے اعتبار سے حساب و کتاب کرتا ہے، اسی معیار پر معاف کرتا ہے اور  بخشتا ہے اور اسی معیار پر سزا اور عذاب دیتا ہے، عدل کے مقابلہ میں خدا کی ایک اور صفت فضل ہے جو عدل پر بخشش کے لحاظ سے برتری رکھتی ہے، جہاں تک ممکن ہے خدا اپنے بندوں پر فضل اور بخشش سے کام لیتا ہے کیونکہ وہ بندوں کو جھنم کی آگ سے نجات دلاتا چاہتا ہے، خداوند عالم نے قرآن مجید میں کئی دفعہ اسکی طرف اشارہ کیا ہے کہ میرا فضل تم لوگوں پر بہت زیادہ ہے مگر تم لوگ شکر کرنے والے نہیں ہو، جیسا کہ اس آیت میں بیان فرما رہا ہے: « إِنَّ اللّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَشْكُرُونَ[سورۂ بقرہ، آیت:۲۴۳] خدا لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکریہ نہیں ادا کرتے ہیں»، اور دوسری جگہ ارشاد فرما رہا ہے: « فَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ[سورۂ بقرہ، آیت:۶۴] اگر فضل خدا اور رحمت الٰہی شامل حال نہ ہوتی تو تم خسارہ والوں میں سے ہوجاتے»، اگر بندوں پر خدا کا فضل نہ ہوتا تو وہ لوگ ہدایت کے قابل نہ ہوتے اور ہدایت کے قابل نہ ہوتے تو شیطان کی پیروی کرتے اور اگر شیطان کی پیروی کرتے تو یقینا نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔
     اسی لئے ہم آج کے دن خداوند عالم سے دعاگو ہیں کہ: « اَللَّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ اَبْوابَ فَضْلِكَ ؛ خدایا اس دن میرے لۓ اپنے فضل کے دروازے کھول دے»۔
     جب خدا اپنے فضل کے دروزے کھول دیتا ہے اسی وقت اس کے بندوں پر برکتیں نازل ہوتی ہیں، برکت کے نازل ہونے کا ایک سبب، تقوی کا اختیار کرنا ہے، جس کے بارے میں امام رضا(علیہ السلام)، رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کر رہے ہیں: « لَا تَزَالُ‏ أُمَّتِي‏ بِخَيْرٍ مَا تَحَابُّوا وَ تَهَادَوْا وَ أَدَّوُا الْأَمَانَةَ وَ اجْتَنَبُوا الْحَرَامَ وَ قَرَوُا الضَّيْفَ‏ وَ أَقامُوا الصَّلاةَ وَ آتَوُا الزَّكاةَ فَإِذَا لَمْ يَفْعَلُوا ذَلِكَ ابْتُلُوا بِالْقَحْطِ وَ السِّنِين‏[۲] جب تک میری امت کے افراد ایک دوسرے سے محبت کے ساتھ پیش آئینگے اور ایک دوسرے کو ہدیہ دینگے اور امانت کو ادا کرینگے اور حرام کاموں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھینگے اور مہمان کا احترام کرینگے اور نماز کو قائم کرینگے اور زکات کو دینگے، خیر اور برکت ان کے شامل حال رہےگی اور جب ان کاموں کو انجام نہیں دینگے تو قحطی اور خشک سالی میں مبتلا ہوجائےگے»، دوسری حدیث میں امام رضا(علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « لَا تَسْتَقِلُّوا قَلِيلَ‏ الرِّزْقِ‏ فَتُحْرَمُوا كَثِيرَه[۳] تھوڑے رزق کو کم مت سمجھو کیونکہ تمھارے اس کام کی وجہ سے تم بہت زیادہ نعمتوں سے محروم ہو جاؤگے».
     اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ اَنْزِلَ عَلَىَّ فيهِ بَرَكاتِكَ؛ اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما»۔
     خدا کی مرضی اس میں ہے کہ مؤمن خدا کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کرے، جن واجبات کو انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے انہیں بجالائے اور جن محرمات سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو انجام نہ دے، یہ وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر خدا کی مرضی حاصل ہوتی ہے، خود خداوند عالم ارشاد فرما رہا ہے: « وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ[سورۂ آل عمران، آیت:۱۳۲] اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو شاید رحم کے قابل ہوجاؤ»، اگر انسان خدا کی عائد کردہ واجب چیزوں پر عمل کرے اور حرام کاموں سے اپنے آپ کو محفوظ کرلے تو یقینا یہ کام، خدا کی رضایت حاصل کرنے کا سبب بنتا ہے، یہاں تک کہ خدا ان سے راضی ہوجاتاہے: « رَّضِيَ اللّهُ عَنْهُمْ وَرَضُواْ عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ[سورۂ مائدہ، آیت:۱۱۹] خدا ان سے راضی ہوگا اور وہ خدا سے اور یہی ایک عظیم کامیابی ہے»، خدا جس سے راضی ہوتا ہے وہ جنت میں جانے کے لئے مشتاق ہوتا اور جو شخص جنت میں جانے کا مشتاق ہوتا ہے وہ اپنی موت کی تمنی کرتا ہے جیسا کہ امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام) ارشاد فرما رہے ہیں: « شَوَّقوا اَنفُسَکُم الی نَعیم الجَنَّه تُحبُّوا المَوتَ وَ تَمقُتُوا الحَیات[۴]اپنے آپ کو جنت کی نعمتوں کا مشتاق بناؤ، یہاں تک کہ موت سے محبت کرو اور  زندگی کو اپنا دشمن جانو».
     اسی لئے آج کے دن ہم خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ وَفِّقْنى فيهِ لِمُوجِباتِ مَرْضاتِكَ وَ اَسْكِنّى فيهِ بُحْبُوحاتِ جَنَّاتِكَ يا مُجيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرّينَ؛ اور مجھ کو اس میں توفیق دے اپنی مرضی کے اسباب کی اور جنت کے بیچ میں میرا مسکن قرار دے، اے پریشان لوگوں کی دعاؤں کے قبول کرنے والے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۵۔
[۲]۔ محمد باقر مجلسى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، دار إحياء التراث العربي،۱۴۰۳ ق، ج۷۱، ص۳۹۲.
[۳]۔ بحار الأنوار, ج۷۵، ص۳۴۷.
[۴]۔ عبد الواحد بن محمد تميمى آمدى، غرر الحكم و درر الكلم،  دار الكتاب الإسلامي، ۱۴۱۰ ق، ص۴۱۴.

جمعرات، 14 مئی، 2020

اکیسویں ماه مبارك رمضان کی دعاکی مختصر شرح

خلاصہ: جب انسان، خدا کی مرضی کو اپنے پیش نظر رکھتا ہے تو شیطان کبھی بھی اس پر مسلط نہیں ہوسکتا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ اِلى مَرْضاتِكَ دَليلاً وَ لاتَجْعَلْ لِلشَّيْطانِ فيهِ عَلَىَّ سَبيلاً وَ اجْعَلْ الْجَنَّةَ لى مَنْزِلاً وَ مَقيلاً يا قاضِىَ حَوآئِجِ الطَّالِبينَ۔[۱]
خدایا میرے لئے اس میں اپنی مرضی کی جانب رہنمائی قرار دے، اور مجھ پر شیطان کے لئے راہ نہ قرار دے، اور جنت کو میرے لۓ منزل اور مقام قرار دے، اے طلب گاروں کی حاجتوں کو پورا کرنے والے۔
     خدا کی رضا اور خشنودی کو حاصل کرنا ہر مؤمن کی خواہش ہوتی ہے لیکن ہر کسی کے ذہن میں یہ سوال ہوتا ہے کہ ہم خدا کی مرضی کو کس طرح حاصل کرسکتے ہیں، اسکا ایک جواب یہ ہو سکتا ہے کہ انسان خدا کی مرضی کو حاصل کرنے کے لئے خدا کے ہر فیصلہ پر راضی رہے، جو کچھ خدا نے اسے عطا کیا ہے، اس پر بغیر کسی شکایت کے راضی رہے، جس کے بارے میں امام صادق(علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « أَوْحَى‏ اللَّهُ‏ عَزَّ وَ جَلَ‏ إِلَى‏ مُوسَى‏ بْنِ عِمْرَانَ (ع) يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ مَا خَلَقْتُ خَلْقاً أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ  عَبْدِيَ‏الْمُؤْمِنِ فَإِنِّي إِنَّمَا أَبْتَلِيهِ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَ أُعَافِيهِ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَ أَزْوِي‏ عَنْهُ مَا هُوَ شَرٌّ لَهُ لِمَا هُوَ خَيْرٌ لَهُ وَ أَنَا أَعْلَمُ بِمَا يَصْلُحُ عَلَيْهِ عَبْدِي فَلْيَصْبِرْ عَلَى بَلَائِي وَ لْيَشْكُرْ نَعْمَائِي وَ لْيَرْضَ بِقَضَائِي أَكْتُبْهُ فِي الصِّدِّيقِينَ عِنْدِي إِذَا عَمِلَ بِرِضَائِي وَ أَطَاعَ أَمْرِي[۲] اللہ تعالی نے حضرت موسی(علیہالسلام) پر وحی کی کہ اے موسی ابن عمران، میں نے کسی ایسی مخلوق کو خلق نہیں کیا جو میرے نزدیک مؤمن سے زیادہ محبوب ہو، اسی لئے جس چیز میں خیر ہے میں نے اس کو اس میں مبتلا کیا اور جس میں اس کے لئے خیر ہے میں نے اس میں اس کے لئے عافیت بخشی ہے، اور جو چیز اس کے لئے شر ہے، میں نے اس سے اس کو دور کردیا ہے چونکہ وہ اس کے لئے خیر ہے، میں جانتا ہوں کے میرے بندے کی بھلائی کس چیز میں ہے، اس لئے اس کو چاہئے کے وہ میری بلا پر صبر کرے اور میری نعمتوں پر شکر کرے اور میری قضاء پر راضی رہے تاکہ میں اسے اپنے نزدیک صدیقین میں سے لکھوں جب وہ میری رضا پر عمل کرے اور میرے حکم کی اطاعت کرے».
     ایک شخص نے امام صادق(علیہ السلام) سے سوال کیا: « بأیِّ شیء یَعْلَمُ المؤمنُ بأنّه مؤمنٌ؛ کس چیز کے ذریعہ مؤمن کو معلوم ہو کہ وہ مؤمن ہے»، آپ نے فرمایا: « بالتسلیم لله، والرضا فیما ورد علیه من سرور أو سخط[۳] جو کچھ اللہ کی جانب سے اس پر نصیب ہو، اس کو قبول کرے اور جو چیز اس کے لئے پیش آئے اس پر راضی رہے چاہے وہ اس کے لئے خوشی کا باعث ہو یا غم کا»۔
     اسی لئے ہم آج کے دن خداوند متعال کی بارگاہ میں دعا کر رہے ہیں: « اَللَّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ اِلى مَرْضاتِكَ دَليلاً؛ خدایا میرے لئے اس میں اپنی مرضی کی جانب رہنمائی قرار دے»۔
     شیطان ہر لمحہ انسان کو گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی دنیا و آخرت دونوں کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ جب کبھی گناہ کے ارتکاب کے وقت انسان کا ضمیر اسے ندا دیتا ہے تو شیطان یہ کہہ کر ضمیر کو خاموش کرادیتا ہے کہ ابھی بڑی عمر پڑی ہے، میں عنقریب توبہ کرلوں گا اور اس طرح دل کو بہلاوا دیتا رہتا ہے اور گناہوں کے گہرے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے، شیطان کس طرح انسان پر مسلط ہوتا ہے، اس کے بارے میں حضرت علی(علیہ السلام) فرمار ہے ہیں: « أُوصِيكُمْ‏ بِتَقْوَى‏ اللَّهِ‏ الَّذِي‏ أَعْذَرَ بِمَا أَنْذَرَ وَ احْتَجَّ بِمَا نَهَجَ وَ حَذَّرَكُمْ عَدُوّاً نَفَذَ فِي الصُّدُورِ خَفِيّاً وَ نَفَثَ فِي الْآذَانِ نَجِيّاً فَأَضَلَّ وَ أَرْدَى وَ وَعَدَ فَمَنَّى وَ زَيَّنَ سَيِّئَاتِ الْجَرَائِمِ وَ هَوَّنَ مُوبِقَاتِ الْعَظَائِمِ حَتَّى إِذَا اسْتَدْرَجَ قَرِينَتَهُ وَ اسْتَغْلَقَ رَهِينَتَهُ أَنْكَرَ مَا زَيَّنَ وَ اسْتَعْظَمَ مَا هَوَّنَ وَ حَذَّرَ مَا أَمَّن‏[۴] اے بندگان خدا! میں تمھیں اس خدا سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے ڈرنے والی اشیاء کے ذریعہ عذر کا خاتمہ کردیا ہے اور راستہ دکھا کر حجت تمام کردی ہے، تمھیں اس دشمن سے ہوشیار کردیا ہے جو خاموشی سے دلوں میں نفوذ کرجاتا ہے اور چپکے سے کان میں پھونک دیتا ہے اور اس طرح گمراہ اور ہلاک کردیتا ہے اور وعدہ کر کے امیدوں میں مبتلا کردیتا ہے، بدترین جرائم کو خوبصورت بناکر پیش کرتا ہے اور مہلک گناہوں کو آسان بنادیتا ہے، یہاں تک کہ جب اپنے ساتھی نفس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اپنے قیدی کو باقاعدہ گرفتار کرلیتا ہے تو جس کو خوبصورت بنایا تھا اسی کو منکر بنادیتا ہے اور جسے آسان بنایاتھا اسی کو عظیم کہنے لگتا ہے اور جس کی طرف سے محفوظ بنادیا تھا اسی سے ڈرانے لگتا ہے»۔
     امام(علیہ السلام) کی حدیث سے یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ شیطان جب انسان پر مسلط ہوجاتا ہے تو گناہ اسکی نظر میں چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں اور شیطان اس قدر انسان کے دل کو تاریک کردیتا ہے تاکہ وہ ہرگز سعادت کے راستہ کو طے نہ کرسکے، اسی لئے آج کے دن ہم خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ لاتَجْعَلْ لِلشَّيْطانِ فيهِ عَلَىَّ سَبيلاً؛ اور مجھ پر شیطان کے لئے راہ  نہ قرار دے»۔
     جو شخص اللہ کی مرضی پر راضی ہوتا ہے اور شیطان کو اپنے اوپر مسلط ہونے نہیں دیتا، خداوند عالم اسکو جنت میں جگہ دیتا ہے، اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ اجْعَلْ الْجَنَّةَ لى مَنْزِلاً وَ مَقيلاً يا قاضِىَ حَوآئِجِ الطَّالِبينَ؛ اور جنت کو میرے لۓ منزل اور مقام قرار دے اے طلب گاروں کی حاجتوں کو پورا کرنے والے»۔  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۵۔
[۲]۔ محمد بن يعقوب كلينى، الكافي، دار الكتب الإسلامية، ۱۴۰۷ ق،ج۲، ص۶۱.
[۳]۔ الکافی، ج۲، ص ۶۳۔
[۴]۔ محمد بن حسين شريف الرضى،، نهج البلاغة (للصبحي صالح)،  هجرت ،۱۴۱۴ ق، ص۱۱۲.

بیسویں ماه مبارك رمضان کی دعا کی مختصر شرح

خلاصہ: اگر ہم واجبات کو انجام دینگے تو جنت کے دروزے ہمارے لئے کھولے جائینگے اور اگر حرام کاموں کےمرتکب ہوئے تو جھنم کے دروازے۔

 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَللَّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ اَبْوابَ الْجِنانِ وَ اَغْلِقْ عَنّى فيهِ اَبْوابَ النّيرانِ وَ وَفِّقْنى فيهِ لِتِلاوَةِ الْقُرْانِ يا مُنْزِلَ الْسَّكينَة فى قُلُوبِ الْمُؤْمِنينَ.[۱]
خدایا میرے لئے اس دن میں جنت کے دروازوں کو کھول دے، اور میرے اوپر بند کردے جہنم کے دروازوں کو، اور مجھ کو اس میں قرآن مجید کی تلاوت کی توفیق دے، اے مومنوں کے دلوں میں سکون کے نازل کرنے والے۔
     ماہ مبارک رمضان میں باقی مہینوں کی بنسبت اﷲ تعالیٰ کا فضل و کرم اور خیرات و برکات کثرت سے تقسیم ہوتی ہیں، جنت کے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازں کو بند کردیا جاتا ہے۔
     جنت کے دروازوں کو کھول دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اپنی تمام عمر میں جو گناہ انجام دئے ہیں، ان سب سے اپنے آپ کو پاک کرلیں اور نیک اور صالح اعمال کو بجالائیں کیونکہ انسان جب تک گناہ کو انجام دیتا ہے اس وقت تک وہ جنت میں داخل نہیں ہوسکتا، جنت کے دروزے اسکے لئے بند ہوتے ہیں، جنت کے دروازے اسکے لئے اس وقت کھولے جاتے ہیں جب اسکے نامہ عمل میں ایک بھی گناہ لکھا ہوا نہ ہو، جس کے بارے میں حضرت علی(علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « الْفَرَائِضَ‏ الْفَرَائِضَ‏ أَدُّوهَا إِلَى اللَّهِ تُؤَدِّكُمْ إِلَى الْجَنَّة[۲] واجبات، واجبات! ان کو اللہ کے لئے بجالاؤ تاکہ تمہیں جنت کی طرف لیکر جائیں»، اگر واجبات کو اللہ کے لئے بجالایا جائے تو اس وقت خداوند عالم ان کو قبول کرتا ہے، اور جب خدا قبول کرتا ہے تو اس وقت اسکے لئےجنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، اسی لئے ہم خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « َللَّهُمَّ افْتَحْ لى فيهِ اَبْوابَ الْجِنانِ؛ خدایا میرے لئے اس دن میں جنت کے دروازوں کو کھول دے»۔
     جھنم کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے محفوظ رکھیں، جس کی جانب خداوند عالم اشارہ فرما رہا ہے: « أَلَمْ یعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ یحَادِدْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا[سورۂ توبہ، آیت:۶۳] کیا یہ نہیں جانتے ہیں کہ جو خدا و رسول سے مخالفت کرے گا اس کے لئے آتش جہنمّ ہے»، اس آیت کے ذریعہ یہ سمجھ میں آرہا ہے کہ جھنم کے دروازے ان لوگوں پر بند کئے جاتے ہیں جو خداوند عالم کی اطاعت کرتے ہیں، کیونکہ جھنم کی آگ ان لوگوں کے لئے ہے جو خدا کی نافرمانی کرتے ہیں، جس کے بارے میں حضرت علی(علیہ السلام) ارشاد فرما رہے ہیں: « فَإِنَ‏ الدُّنْيَا قَدْ أَدْبَرَتْ‏ وَ آذَنَتْ بِوَادِعٍ وَ إِنَّ الْآخِرَةَ قَدْ أَقْبَلَتْ وَ أَشْرَفَتْ بِاطِّلَاعٍ أَلَا وَ إِنَّ الْيَوْمَ الْمِضْمَارَ وَ غَداً السِّبِاقَ وَ السُّبْقَةَ الْجَنَّةُ وَ الْغَايَةَ النَّارُ أَ فَلَا تَائِبٌ مِنْ خَطِيئَتِهِ قَبْلَ مَنِيَّتِهِ‏  أَ لَا عَامِلٌ لِنَفْسِهِ قَبْلَ يَوْمِ بُؤْسِهِ أَلَا وَ إِنَّكُمْ فِي أَيَّامِ أَمَلٍ مِنْ وَرَائِهِ أَجَلٌ فَمَنْ عَمِلَ فِي أَيَّامِ أَمَلِهِ قَبْلَ حُضُورِ أَجَلِهِ فَقَدْ نَفَعَهُ عَمَلُهُ وَ لَمْ يَضْرُرْهُ أَجَلُهُ وَ مَنْ قَصَّرَ فِي أَيَّامِ أَمَلِهِ قَبْلَ حُضُورِ أَجَلِهِ فَقَدْ خَسِرَ عَمَلُهُ وَ ضَرَّهُ أَجَلُهُ أَلَا فَاعْمَلُوا فِي الرَّغْبَةِ كَمَا تَعْمَلُونَ فِي الرَّهْبَةِ أَلَا وَ إِنِّي لَمْ أَرَ كَالْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا وَ لَا كَالنَّارِ نَامَ هَارِبُهَا[۳] یہ دنیا پیٹھ پھیر چکی ہے اور اس نے اپنے وداع کا اعلان کردیا ہے اور آخرت سامنے ہے اور اس کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں۔ یاد رکھو کہ آج میدان عمل ہے اور کل مقابلہ ہوگا سبقت کرنے والے کا انعام جنت ہوگا اور برے عمل کا انجام جھنم ہوگا۔ کیا کوئی ایسا نہیں ہے جو موت سے پہلے خطاؤں سے توبہ کرلے اور سختی کے دن سے پہلے اپنے نفس کے لئے عمل کرلے۔ یاد رکھو کہ تم، آج امیدوں کے دنوں میں ہو جس کے پیچھے موت لگی ہوئی ہے، تو جس شخص نے امید کے دنوں میں موت آنے س پہلے عمل کرلیا اسے اس کا عمل یقینا  فائدہ پہونچائے گا، اور موت کوئی نقصان نہیں پہونچائے گی لیکن جس نے موت سے پہلے امید کے دنوں میں عمل نہیں کیا، اس نے عمل کی منزل میں گھاٹا اٹھایا اور اس کی موت بھی نقصان دہ ہوگی۔ آگاہ ہوجاؤ! تم لوگ راحت کے حالات میں اسی طرح عمل کرو جس طرح خوف کے عالم میں کرتے ہو، کہ میں نے جنت جیسا کوئی مطلوب نہیں دیکھا ہے جس کے طلبگار سب سورہے ہیں اور جھنم جیسا کوئی خطرہ نہیں دیکھا ہے جس سے بھاگنے والے سب خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں»۔ اگر ہم کو جہنم میں جانے سے اپنے آپ کو بچانا ہے تو ضروری ہے کے امام علی(علیہ السلام) کے اس ارشاد پر عمل کریں کیونکہ وقت تنگ ہے اور موت نزدیک ہے اور جھنم کے دروازے گنہگاروں کے لئے کھلے ہوئے ہیں اور اسکی آگ ان لوگوں کے لئے تیار ہے، اسی لئے ہم آج کے دن خدا سے دعا مانگ رہے ہیں: « وَ اَغْلِقْ عَنّى فيهِ اَبْوابَ النّيرانِ؛ اور میرے اوپر بند کر دے جہنم کے دروازوں کو»۔
     قرآن کریم میں فکر اور تدبر کرنے کی فضیلت میں بہت سی احادیث موجود ہیں، قرآن ایسی کتاب ہے جسے خدا نے لوگوں کے لیے دنیا ہی میں ایک مکمل ضابطہ حیات بناکر بھیجا ہے، جس سے آخرت کی راہ میں نور اور روشنی حاصل کر سکتے ہیں، اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک قرآن کے معانی میں تدبر اور فکر نہ کیا جائے، یہ ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ عقل کرتی ہے۔ روایات اور احادیث میں جتنی تاکید ہے وہ اسی حکم عقل کی تائید اور اسی کی طرف راہنمائی ہے، جس کے بارے میں امام زین العابدین(علیہ السلام) فرما رہے ہیں: « آیٰاتُ الْقُرْآنِ خَزٰائِنٌ فَکُلَّمٰا فُتِحَتْ خَزینَةٌ ینَبْغَي لَکَ اَنْ تَنْظُرَ مٰا فِیھٰا[۴] قرآن کی آیات خزانے ہیں، جب بھی کوئی خزانہ کھولا جائے اس میں موجود موتیوں اور جواہرات کو ضرور دیکھا کرو»۔
     اسی لئے خدا کی بارگاہ میں دعا ہے، ہم کو قرآن پڑھنے، پڑھ کر سمجھنے، اور سمجھ کر عمل  کرنے کی توفیق عطا فرمائے: « وَ وَفِّقْنى فيهِ لِتِلاوَةِ الْقُرْانِ يا مُنْزِلَ الْسَّكينَة فى قُلُوبِ الْمُؤْمِنينَ؛ اے مومنوں کے دلوں میں سکون کے نازل کرنے والے»۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حولے:
[۱]۔  ابراہیم ابن علی عاملی الکفعمی، المصباح للکفعمی، دار الرضی(زاھدی)، ۱۴۰۵ق، ص۶۱۵۔
[۲]۔ محمد باقر مجلسى، بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار ، دار إحياء التراث العربي ، ۱۴۰۳ق، ج۲، ص۲۹۰.
[۳]۔بحار الأنوارالجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار،ج۷۴، ص۳۳۳.
[۴]۔محمد بن يعقوب كلينى، الكافي، دار الكتب الإسلامية، ۱۴۰۷ ق ،، ج۲، ص۶۰۹۔