Translate This Site In Your Language

مطلوبہ مواد لکھیں

مقالات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
مقالات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 18 جولائی، 2020

قرآن اور زندگی

خلاصہ: انسان کی زندگی کی اتنی اہم ہے کہ خود انسان اپنی زندگی کو ختم کرنے کا حق بھی نہیں رکھتا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
      زندگی خدا کی عطا کردہ بہت بڑی نعمت ہے، اسلامی شریعت میں اس کی بڑ ی حفاظت کی گئی ہے کسی جانور کو ناحق قتل کرنا بھی اسلامی شریعت میں جرم ہےخداوند متعال ناحق کسی کا خون بہانے کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتے ہوئے فرمارہا ہے:«مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِى اِسْرَآئِيْلَ اَنَّهمَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا[سورۂ مائدہ، آیت:۳۲] اسی بنا پر ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جو شخص کسی نفس کو .... کسی نفس کے بدلے یا روئے زمین میں فساد کی سزا کے علاوہ قتل کرڈالے گا اس نے گویا سارے انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے ایک نفس کو زندگی دے دی اس نے گویا سارے انسانوں کو زندگی دے دیے»۔
     اسی لئے اسلام میں خود انسان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنی جان لے لے:«وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا[سورۂ نساء، آیت:۲۹]اور خبردار اپنے نفس کو قتل نہ کرو - اللہ تمہارے حال پر بہت مہربان ہے»۔
     قرآن کی ان آیات کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت اسلامی نے ہرشخص کو امن وسکون کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیا ہے اور کسی کو اس حق کو روندنے کا حق نہیں ہے۔

بدھ، 17 جون، 2020

بصیرت اور عمل کا رابطہ

خلاصہ: بصیرت اور عمل دونوں ایک دوسرے سے مرتبط ہیں اگر کسی کے پاس بصیرت ہے تو وہ بصیرت اسے خود بخود عمل کی طرف دعوت دیتی ہے اور اگر کسی کے پاس عمل ہے تو اس کا عمل بصیرت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
     عمل سے مراد ہر وہ سعی و کوشش ہے جس کو انسان رضائے الہی کی خاطر انجام دیتا ہے، اس کے دو رخ ہوتے ہیں؛ ایک مثبت، یعنی اوامر خدا کی اطاعت اور دوسرا سلبی یعنی اپنے نفس کو حرام کا موں سے محفوظ رکھنا۔ اس طرح عمل سے مراد یہ ہے کہ خوشنودی پر وردگار کی خاطر کوئی کام کرے، چاہے کسی کام کو بجا لایا جائے اور چاہے کسی کام سے پر ہیز کیا جائے۔ بصیرت اور عمل کے درمیان دوطرفہ رابطہ ہے۔ بصیرت عمل کا سبب ہوتی ہے اور عمل، بصیرت کا، اور دونوں کے آپسی اور طرفینی رابطے سے خود بخود بصیرت اور عمل میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ عمل صالح سے بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے اور بصیرت میں زیادتی، عمل صالح میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔ اس طرح ان میں سے ہر ایک، دوسرے کے اضافہ کا موجب ہوتا ہے یہاں تک کہ انسان ان کے سہارے بصیرت وعمل کی چوٹی پر پہونچ جاتا ہے۔
عمل صالح کا سرچشمہ بصیرت
     بصیرت کا ثمرہ(نتیجہ) عمل صالح ہے اگر دل و جان کی گہرائیوں میں بصیرت ہے تو وہ لامحالہ عمل صالح پر آمادہ کرے گی، بصیرت کبھی عمل سے جدا نہیں ہوسکتی ہے۔ روایات اس چیز کو صراحت سے بیان کرتی ہیں کہ انسان کے عمل میں نقص اورکوتاہی، دراصل اس کی بصیرت میں نقص اورکوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس سلسلہ میں رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) فرمارہے ہیں: «الْمُوقِنُ يَعْمَلُ لِلَّهِ كَأَنَّهُ يَرَاهُ فَإِنْ‏ لَمْ‏ يَكُنْ‏ يَرَى‏ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ يَرَاه[۱]درجۂ یقین پر فائز انسان، ﷲ کیلئے اس طرح عمل انجام دیتا ہے جیسے وہ ﷲکو دیکھ رہا ہو، اگر وہ اﷲکو نہیں دیکھ رہا ہے تو کم از کم ﷲ تو اس کو دیکھ رہا ہے»۔
بصیرت کی بنیاد عمل صالح
     ابھی آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ عمل صالح کی بنیاد بصیرت ہے، اسی کے بالمقابل بصیرت کا سرچشمہ عمل صالح ہے۔ دوطرفہ متبادل رابطوں کے ایسے نمونے آپ کو اسلامی علوم میں اکثر مقامات پر نظر آئیں گے۔ قرآن کریم، عمل صالح اور بصیرت کے اس متبادل اور دوطرفہ رابطہ کا شدت سے قائل ہے اور بیان کرتا ہے کہ بصیرت سے عمل اور عمل صالح سے بصیرت حاصل ہوتی ہے اور عمل صالح کے ذریعہ ہی انسان خداوند عالم کی جانب سے بصیرت کا حقدار قرار پاتا ہے: «والذین جاھدوا فینا لنھدینّھم سُبُلَنا وان ﷲ لمع المحسنین[سورۂ عنکبوت، آیت:۶۹] اور جن لوگوں نے ہمارے حق میں جہاد کیا ہے انھیں اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے اور یقینا ﷲحسن عمل والوں کے ساتھ ہے»۔
    آیت واضح طور پر بیان کر رہی ہے کہ جہاد (جوخود عمل صالح کا بہترین مصداق ہے)کے ذریعہ انسان ہدایت الہی کو قبول کرنے اور حاصل کرنے کے لائق ہوتا ہے: «لنھدینّھم سبلنا؛ہم انہیں اپنے راستوں کی ہدایت کرینگے»۔
نتیجہ:
     اس پوری بحث سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ بغیر بصیرت کے انسان اگر عمل کریگا تو اسکے عمل میں اتنا وزن نہیں پایاجائیگا اور بغیر عمل کے بصیرت بھی حاصل نہیں ہوسکتی، اسی لئے ہم کو چاہئے کہ ہم ہر وقت بصیرت کو حاصل کرنے اور عمل کو بجالانے کی کوشش کرتے رہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ:
[۱]‏محمد باقرمجلسى، بحار الأنوار، بحار الأنوار، ج۷۴، ص۲۱، دار إحياء التراث العربي - بيروت، دوسری چاپ، ۱۴۰۲ ق.

منگل، 9 جون، 2020

آية الله العظمي سيد علي حسيني سيستاني دام ظله

میری اتنی بساط تو نہیں کہ میں مرجع دینی کبیر سید علی حسینی سیستانی جیسی شخصیت کے علمی مرتبے پر کچھ لکھوں لیکن چند ایک مشاہدات ہیں جو میں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان کے  چند فتاوی کے نتائج دیکھ کر اخذ کیے۔ یہ وہ فتوے تھے جن کا تعلق ملکی و بین الاقوامی حالات و واقعات سے تھا۔ میرا مشاہدہ یہ رہا کہ عراق جنگ کے بعد ان کے "ووٹ دینا واجب ہے" کے فتوے سے لیکر داعش کے خلاف مشہور فتوی دفاع تک اور حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے حوالے سے دیئے گئے ان کے فتوے تک، ہر فتوے کا نتیجہ جہان تشیع کیلیے خیر اور اتحاد کی صورت سامنے آیا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے ان کے ان تمام فتووں کے پیچھے گہرا تدبر اور مستقبل کی پیش بینی کی بہترین صلاحیت موجود ہے۔ 
چند برس قبل داعش نے اربعین امام حسین علیہ السلام کے موقع پر اربعین واک پر حملوں کو اعلان کیا تو امیر المومنین علیہ السلام کے اس نوکر نے اربعین پر عراق آمد کیلئے ویزہ کی شرط ختم کرنے کا اعلان کرکے کرہ ارض پر سب سے بڑے انسانی اجتماع کی مثال قائم کردی جس نے جہان تشیع میں مودت و جذبیت اور اتحاد کی نئی روح پھونک دی۔ ہر قسم کے اختلاف سے بالاتر ہوکر ہر شخص کی کوشش تھی کہ وہ اربعین سید الشہداء علیہ السلام کے اس اجتماع میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کر سکے اور جو شامل نہ ہوسکے وہ ملنگ مزاج عراقیوں کی فراخدلی اور خدمت کو خوب خراج تحسین پیش کر سکے۔ 

گززشتہ دنوں بی بی سی اُردو پر مرجعیت کے حوالے سے شائع ہونے والے تفصیلی مضمون میں جب سید سیستانی کی اثر انگیز شخصیت کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بیان کیا گیا کہ جہان تشیع میں ان کے مقلدین کی تعداد سب سے زیادہ ہے تو یہ ذکر کرتے ہوئے ان کے علمی شجرے کا ذکر کچھ ان الفاظ میں کیا کہ سید علی حسینی سیستانی کو پچھلی صدی کے نامور ترین مراجع کا طالبِ علم ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ جن میں اہم ترین آیت اللہ العظمیٰ سیّد ابو القاسم الخوئی، آیت اللہ العظمیٰ محسن الحکیم اور آیت اللہ العظمیٰ سیّد حسین طباطبائی بروجردی جیسے مجتہدین شامل ہیں۔ یوں اہم ترین مراجع کی لڑی بروجردی، محسن الحکیم اور قاسم الخوئی سے ہوتی ہوئی سیستانی تک پہنچتی ہے۔
۔
شاید یہی وجہ ہے کہ مراجع کی اس علمی لڑی سے تعلق رکھنے والے اس بزرگ کے فتاوی پر امیر المومنین علیہ السلام کی ایسی نظر کرم ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اول تو امیر المومنین علیہ السلام کا یہ نوکر زیادہ منظر عام پر آیا نہیں مگر جب بھی آیا تو جہان تشیع کیلیے خیر، اتحاد اور تحفظ کی نوید لیکر آیا۔ میں جب جب سید سیستانی کے بارے میں کچھ پڑھتا ہوں تو مجھے بہت عرصہ قبل ایک عالم دین کی کہی بات یاد آجاتی ہے کہ سید سیستانی جیسی شخصیات کا یہ تخصص ہوتا ہے کہ یہ اکثر منظر عام پر آئے بغیر شر کی جڑ کاٹ دیتی ہیں۔ 
۔
سید علی حسینی سیستانی کی انہی خصوصیات کی وجہ سے مجھ جیسے بہت سے "رسمی شیعہ" انہیں اپنا مرشد مانتے ہیں، ان سے محبت و عقیدت رکھتے ہیں اور ان کی تقلید کرتے ہیں۔ پروردگار عالم بحق اہلیبیت علیھم السلام، نجف الاشرف میں موجود مولا امام زمانہ عج کے اس خادم کو طول عمر عطا فرمائے تاکہ وہ جہان تشیع کیلیے خیر و اتحاد کا باعث بنتے رہیں اور مستقبل کی بہترین پیش بینی کرتے ہوئے شر کی جڑ کاٹتے رہیں۔
۔
نور درویش

بدھ، 3 جون، 2020

شهداء سنده

وادئ سندھ میں شیعہ کشی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی یہاں اسلام کی تاریخ ۔ اس خطے میں شیعہ نسل کشی کا سب سے پہلا واقعہ عباسی خلیفہ منصور دوانیقی کے دور میں ہوا ، جب اسکے لشکر کے ہاتھوں حضرت عبد اللہ شاہ غازی رح اور انکے چالیس ساتھیوں کا قتل ہوا ۔ یہ آٹھویں صدی کی بات ہے ۔ اسوقت سے لیکر ابتک تسلسل سے شیعہ نسل کشی کے واقعات جاری ہیں ، جنکے نتیجے میں شیعہ دیہات کے دیہات اجڑ گئے ۔ کتب خانے تاراج ہو گئے ۔ شیعہ تقیہ پر مجبور ہوتے رہے ۔

تب سے لیکر اب ، 2020 تک شیعہ نسل کشی کے پیچھے مختلف عوامل کارفرما رہے ۔ ریاستی سطح پر کبھی شیعوں کیخلاف جذبات کو ابھارا گیا جسکی ایک مثال اورنگزیب عالمگیر کی شیعہ مخالف "فتاوی عالمگیری" ہے ۔ کبھی تکفیری علماء رسائل و کتب لکھتے رہے ۔ سترہویں صدی میں برصغیر میں وہابیت کے آغاز و نفوذ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ۔ کبھی احمد شاہ ابدالی جیسے حکمرانوں نے شیعوں کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ اٹھارہویں صدی میں وہابی لشکر نے جب کربلا و نجف پر حملہ کیا اور پانچ ہزار کے قریب شیعوں کو شہید کیا تو گویا دنیا بھر میں شدت پسندوں کو شیعوں کے قتل کا اجازت نامہ مل گیا ۔

سترہویں صدی میں دار العلوم دیوبند کے مولانا رشید گنگوہی کے شدید شیعہ مخالف فتووں نے شیعہ نسل کشی کے عمل کو مزید تیز کر دیا حتی کہ 1944 میں تنظیم اہلسنت کے نام سے دیوبندی جماعت بنائی گئی ، جو موجودہ سپہ صحابہ اہلسنت و الجماعت کی ابتدائی ترین شکل ہے ۔

پاکستان بننے کے فورا بعد یہ تنظیم شیعوں کیخلاف متحرک ہو گئی، پاکستان کی ابتدائی تاریخ میں ہی اس تنظیم نے :
1949 اور 50 میں نارووال میں عزاداری پر حملے کئے
1951 میں پنجاب اسمبلی کے شیعہ امیدواروں کیخلاف تکفیری کیمپین چلائی
1955 میں پنجاب میں 25 مقامات پر شیعوں پر حملے کئے جسکے نتیجے میں سینکڑوں شیعہ زخمی ہوئے
1957 میں ملتان میں مظفر گڑھ میں محرم کے جلوس پر حملہ کیا
1958 میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کا باقاعدہ آغاز کیا اور بھکر میں ایک شیعہ خطیب آغا محسن کو شہید کیا

اب آئیں 1963میں جسکے لئے میں نے یہ پوسٹ لکھی ہے اور جو سال شیعوں کے خون سے بھرا پڑا ہے :

اس گروہ نے جون 1963 میں بھاٹی دروازہ لاہور عزاداری کے جلوس پر حملہ کیا ، کئی شیعہ شہید اور متعدد زخمی ہوئے
3 جون 1963 کو سندھ کے ضلع خیر پور کے گائوں ٹھیری میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 120 شیعہ عزاداروں کو کلہاڑیوں اورتلواروں سے ذبح کیا گیا ۔

آج یعنی 3 جون کو انہی مظلوم پاکستانی شیعوں کی برسی ہے

ریاستی ہرکاروں کو اس تاریخی عمل سے کوئی سبق نہیں ملا ، اور انہوں نے مسلسل متشدد گروہوں کی پشت پناہی جاری رکھی حتی کہ 80 کی دہائی میں تنظیم اہلسنت کو اپ گریڈ کر کے انجمن سپہ صحابہ لانچ کر دی گئی ۔ 90 کی دہائی میں تزرویراتی گہرائی کے مفروضے کے خالق جنرل اسلم بیگ و حمید گل نے کٹر متشدد مذہبی گروہوں کو مسلح کرنا شروع کیا ، جسکا سب سے زیادہ فائدہ انجمن سپہ صحابہ نے اٹھایا ۔

اسکے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ 90 کی دہائی سے آج تک پاکستان میں پچیس ہزار کے قریب شیعہ شہید ہو چکے ہیں ، جن میں 300 کے قریب ڈاکٹرز تھے اور جن میں ایک ڈاکٹر شہید ثریا کھوسہ کی 6 جون کو سولہویں برسی بھی ہے ۔ شیعوں کی نسل کشی کا یہ مختصر جائزہ اس حقیقت کو بھی عیاں کرتا ہے کہ پاکستان میں شیعہ نسل کشی 80 کی دہائی سے ہی شروع نہیں ہوئی ، نہ ہی کسی قسم کی سعودی / ایران پراکسی کا نتیجہ ہے ۔ بلکہ یہ اس نفرت ، بغض و عداوت کا نتیجہ ہے جو صدیوں سے محبانِ اہلیبیت ع کیخلاف سینہ بہ سینہ چلا آرہا ہے ۔

شیعوں کیخلاف نفرت پر مبنی یہ لاوا آج بھی دہک رہا ہے ، پچھلے چند ماہ سے یہ لاوا سینوں سے نکل کر عملی شکل جاختیار کر رہا ہے جسکا نتیجہ آئے دن شیعہ کلنگ کی صورت میں نکل رہا ہے ۔ شیعوں کی تکفیر کرنے والے اور انکے خون کو حلال سمجھنے والے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ۔ کھلے عام شیعوں کو قتل کی دھمکیاں دینے والے سرکاری پروٹوکول میں عمرے کرنے جا رہے ہیں ۔ شیعہ نسل کشی کی یہ تاریخ جو اس خطے میں صدیوں پر محیط ہے ، شیعوں کو کہاں لے جائے گی اس سوال کا فوری جواب دینا مشکل ہے ۔ لیکن جس سوال کا جواب نہایت آسان ہے وہ یہ کہ کسی ملک کی قریبا 20 فیصد آبادی کو مسلسل جبر و استحصال کا شکار کیا جائے ، انکی جان تک محفوظ نہ ہو یہ صرف اس گروہ کیلئے نہیں بلکہ اس پورے ملک کیلئے خطرہ ہوتا ہے ۔

جون 1963 میں شہید ہونے والے بھاٹی دروازے کے عزاداروں اور خیر پور ٹھیری کے شہید عزاداروں کی بلندئ درجات کیلیے الفاتحہ ۔

ہفتہ، 30 مئی، 2020

انهدام جنت البقيع

*انہدامِ جنت البقیع*

8 شوال یومِ انہدامِ جنت البقیع کے عنوان سے عالمِ اسلام میں منایا جاتا ہے اسے یومِ الھدم یعنی منہدم کرنے کا دن بھی کہتے ہیں. جنت البقیع سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں موجود ایک قبرستان ہے جہاں عالمِ اسلام کی مشہور و معروف شخصیات مدفون ہیں اور *8 شوال 1344 ہجری بمطابق 24 اپریل 1925 عیسوی* کو  سعودی بادشاہ عبدالعزیز بن سعود (لعن) کے حکم پر آئمہ علیہ سلام (امام حسن وسجاد و باقر و جعفر ع) کے گنبد و مزارات منہدم(گِرا دینا) کر دیے گئے.

*مدفون شخصیات*
 جن میں سرِ فہرست حضرت فاطمہ الزہرا بنتِ حضرت محمد (ص), امام حسن (ع), امام زین العابدین (ع) , امام محمد باقر (ع), امام جعفر صادق (ع) مدفون ہیں. انکے علاوہ  حضرت فاطمہ بنتِ اسد (ع) جو چچی حضرت محمد (ص) , زوجہ حضرت ابوطالب (ع) اور والدہ حضرت علی (ع) ہیں , والدہ حضرت عباس بی بی ام البنین (ع) ,حضرت عقیل بن ابی طالب (ع), چچا پیغمبرِ اکرم حضرت عباس بن عبدالمطلب (ع), پھوپھی پیغمبرِ اکرم حضرت صفیہ بنتِ عبدالمطلب (ع) , پسر پیغمبرِ اکرم حضرت ابراہیم (ع) , محمد بن ابی طالب المعروف حضرت محمد بن حنفیہ (ع) (آپکی والدہ کا نام حنفیہ خاتون تھا اسی نسبت سے آپ محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں ) , زوجِ حضرت بی بی زینب حضرت عبداللہ بن جعفر طیار (ع), حضرت اسماعیل بن امام جعفر صادق (ع), دائی حلیمہ اور اہلسنت کے امام مالک کے علاوہ  تقریباً سات ہزار صحابہ اکرام اور زشتہ دار حضرت محمد ص مدفون ہیں.

*انہدامِ جنت البقیع مختصر تاریخ*
جنت البقیع اور روضہ پیغمبرِ اکرم حضرت محمد (ص) کو منہدم کرنے کی نیت سے پہلی مرتبہ آلِ سعود و ناصبی 1220 ہجری کو مدینہ منورہ پہ حملہ آور  ہوئے یہ سلطنت عثمانیہ کا دور تھا آل سعود اور ناصبیوں نے مختلف مساجد اور مزارات کو نشانہ بنایا مگر مجموعی طور پہ اپنے ارادوں میں ناکام رہے. یہ *تحریکِ وہابیت* جو محمد بن عبد الوہاب بن شیخ سلیمان نے چلائی تھی, کا مدینہ پہ پہلا حملہ تھا. مزارات و مساجد کو جو  نقصان پہنچا, اسکی تعمیرِ نو کے لیے عثمانی حکومت نے ارادہ کیا تو شیعہ و سنی حضرات نے مل کر اسکے لیے رقم مہیا کی. مزارات کی خوبصورت اور جدید ترین تازین و آرائش کی گئ. 1344 ہجری کو جب آلِ سعود نے مکہ, مدینہ اور اطراف میں مکمل طور پہ قبضہ کر لیا تو مقاماتِ مقدسہ جنت البقیع, اصحاب اور خاندانِ رسالت کے آثار کو زمینِ حجاز سے مٹانے کا ارادہ کیا تو اسکے لیے چند ناصبی مفتیوں سے فتوئے بھی لے لیے.

*فتوے*
آل سعود نے لوگوں کی بغاوت سے بچنے کے لیے مفتیوں سے فتوئے لینے کے لیے *قاضی القضاۃ سلمان بن بلیہد* کو منتخب کیا. اس قاضی القضاۃ نے سوالات کو ایسے توڑ مروڑ کر علمائے مدینہ کے سامنے رکھا جن کے جوابات, سوالات میں ہی موجود تھے اور اندازِ بیان سے یہ واضح تھا کہ جو مزارات کو منہدم کرنے کا فتوٰی نہیں دے گا وہ قتل ہوگا. کچھ مفتیان نے ڈر کر اور کچھ نے چند سکوں کے عوض اپنا ایمان بیچ کر انہدام کے لیے فتوے دیے. یہ سوالات و جوابات مکہ مکرمہ سے جاری ہونے والے رسالے *اُم القریٰ* ماہِ شوال 1344 میں  شائع ہوئے.

*سعودی حکومت*
1205 سے 1217 ہجری تک کئی مرتبہ سعودیوں نے حجاز پہ حکومت قائم کرنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے. آخرکار 1217 ہجری میں طائف پہ قابض ہو گے اور طائف میں موجود مساجد کو منہدم کرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے مسلمانوں کا قتلِ عام بھی کیا. 1218 ہجری میں مکہ پہ حملہ آور ہوئے اور زم زم پہ موجود عمارت تک کو بھی گِرا دیا.

*قبرستان حجون, مکہ*
1344ہجری میں بقیع پہ حملہ کرنے سے پہلے آل سعود نے مکہ میں موجود ایک قبرستان حجون پہ حملہ کیا اور وہاں موجود مزارات کو مسمار کیا. اس قبرستان کو *جنت المعلیٰ* بھی کہا جاتا ہےاور بعد از بقیع یہ افضل ترین قبرستان ہے. حضرت محمد (ص) زیارت کے لیے جایا کرتے کیونکہ اس قبرستان میں آپکے اجداد حضرت عبد المناف (ع), دادا حضرت عبد المطلب (ع), *چچا حضرت ابو طالب (ع)* , پسرِ پیغمبرِ اکرم حضرت قاسم (ع) اور زوجہ حضرت خدیجۃ الکبری (س) مدفون ہیں.

*یوم الھدم*
یعنی 8 شوال 1344 ہجری بمطابق 21 اپریل 1925 کو عبدالعزیز بن سعود کی سربراہی میں مدینہ پہ حملہ آور ہوئے اور عثمانی حکومت کے نمائندوں کو مدینہ سے باہر نکال دیا اور دفاع کرنے والوں سے جنگ کی. اسکے بعد روضہ حضرت فاطمۃ الزہرا (س) , امام حسن (ع),امام زین العابدین (ع), امام باقر (ع) اور امام جعفر صادق (ع) منہدم کر دیا💔. بازاروں اور دوکانوں پہ لوٹ مار سمیت بوڑھے, عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا.

*لوٹ مار*
مورخیںن کے مطابق مزاراتِ مقدسہ سے 40 صندوق ہیرے و جواہرات مرصع بہ الماس و یاقوت اتارے. 100 سے زائد قبضہ شمشیر جن کے اوپر الماس و یاقوت جڑے تھے اور وہ خالص سونے سے بنے تھے  سب لوٹ لیے.